ممبئی،02؍اپریل ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )شیوسینا نے آج طنز کیا کہ ملک کو کرپشن کے خلاف تحریک کی ضرورت سے متعلق آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بیان کے لئے کیا ان پر’ ملک مخالف‘یا ’ہندو مخالف‘ہونے کا ٹھپا لگے گا۔پارٹی نے کہا کہ سربراہ نے اسی مسئلے پر واضح رائے رکھی ہے جسے شیوسینا اٹھاتی رہی ہے اور ملک کے حالات کودیکھتے ہوئے یہ امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔شیوسینا نے کہاکہ آر ایس ایس تنظیم کو چلانے والے نے اشارہ دیاہے کہ انتظامیہ کمزور ہوئی ہے اور ملک بھر میں کرپشن کا جھگڑا زوروں پر ہے۔ چونکہ انہوں نے (ملک میں)بدعنوانی کی بات کو قبول کی ہے، کیا ان پر ملک مخالف یا ہندو مخالف ہونے کا ٹھپا لگے گا؟اس میں کہا گیا ہے کہ بدعنوانی پر آواز اٹھانے والی شیوسینا پہلی پارٹی تھی اور اب بھاگوت نے بھی وہی مسائل اٹھائے ہیں۔بھاگوت نے مراٹھا حکمران شیواجی کی حکمرانی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ جہاں عورت کی حفاظت کی ضمانت نہیں ہے ایسے بدلتے ہوئے وقت کا الزام کس کے سرکیا جانا چاہئے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کو بدعنوانی کے خلاف تحریک کی ضرورت ہے۔شیوسینا نے کہاکہ ملک نے شیوسینا کے سربراہ بالا صاحب ٹھاکرے اور آر ایس ایس کے سربراہ کے رخ کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا ہے۔ان دو قدآور لیڈروں نے کبھی الیکشن نہیں لڑا لیکن انہوں نے عوام کی آواز اٹھانے والے دائیں بازو تنظیموں کو مضبوط کرنے کا کام کیا ہے۔حالانکہ مرکز میں بی جے پی قیادت حکومت ہے حقیقی کنٹرول ناگپور میں ہے۔اور اب ایس ایس سربراہ نے خود ہی یہ مسئلہ اٹھا دیا ہے۔